دھنک آنچلوں کے رنگ

گلِ دوپہر

ڈاکٹر صائمہ اسما

نوے کی دہائی کی بات ہے۔ ایک  گھر بیٹی کو پڑھانے والا ٹیوٹر  اس لڑکی کو ورغلا کر اپنے ساتھ بھگا لے گیا۔ ایک شریف گھرانے کی عزت اچھل گئی، ماں باپ زندہ درگور ہوگئے۔ کورٹ میرج کے کیس میں تین ججوں کے پینل میں سے دو نے اس لڑکی کے حق میں فیصلہ دے دیا کیونکہ لڑکی کاکیس لڑنے والی کوئی اور نہیں خود عاصمہ جہانگیر تھیں۔ مگر یہ فیصلہ ایک جج کے اختلافی نوٹ کے ساتھ جاری ہؤا۔ یہ نوٹ کیا تھا ، ہماری معاشرتی اقدار کا نوحہ تھا۔ اس وقت سب اخبارات عورت کی آزادی پر بھاشن دے رہے تھے اور معاملہ چونکہ ایک دینی شہرت رکھنے والے گھرانے کا تھا، تو دیندار گھرانوں کو بھی خوب رگیدا جارہا تھا، ان کے گھروں میں عورتوں  پر جبر کی کہانیاں گھڑی جارہی تھیں، عدالت کے فیصلے کو سراہا جارہا تھا، عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں سینہ پھلائے پھررہی تھیں۔مگرجج کےاس نوٹ نے  رنگ میں بھنگ ڈال کرسب کو ایک لحظے کے لیے سوچنے پر مجبور کردیا تھاکہ یہ ہم سب کس بات کا جشن منا رہے ہیں! کسی بھی کم عمر لڑکی کے لیے ایک غیر، انجانا مرد  ،اس کے باپ سے زیادہ مخلص اور جانثار کیسے ہو سکتا ہے؟کیا ایسے فیصلےہماری بچیوں کی حفاظت کریں گے یا انہیں مزید خطرات کے حوالے کردیں گے؟ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ اس وقت اس لڑکی کی حمایت میں جو ماحول بنا دیا گیا تھا، اس کےبرخلاف عطا  الحق قاسمی صاحب نے اپنے کالم میں بڑی جرأت سے لکھا تھا کہ خدا سے ڈریں اس وقت سے جب کسی کی بہن بیٹی کسی نامحرم کے ساتھ بھاگ جائے اور اپنی عزت بھی خطرے میں ڈال دے اور اپنے ماں باپ کی نیک نامی بھی۔

لڑکیوں کی خواب دیکھنے والی کچی عمر بہت سہانی ہوتی ہے۔زندگی کو بس رنگین شیشوں کے پار سے دیکھتی ہے۔ اپنا آپ کسی  داستان کی شہزادی سا لگتا ہے اور پُرشوق نگاہوں سے دیکھنے والا، سراہنے والا کوئی بھی ہو، وہ شہزادہ! جو ہاتھ  تھام کر اپنے سنگ  ایک ان دیکھی، تخیل میں سجی رنگین دنیا میں لے جائے گا۔لڑکیوں کی نفسیات کو ہمارے عہد کی باکمال شاعرہ پروین شاکر سے بڑھ کر کس نے جانا ہوگا، جس نے کہا تھا:

حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں

دوگھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

مگرستم ظریفی یہ کہ یہی حسین لڑکیاں دوگھڑی میں ورغلائی جاسکتی ہیں، مدھر لہجوں اور گھمبیر آوازوں میں بولے گئے  چند بول، چند جھوٹے وعدے ، کچھ سبز باغ انہیں ان کی ہستی سے بیگانہ کردینے کو کافی ہوتے ہیں۔جن ماں باپ نے خون پسینہ ایک کر کے پالا پوسا ان سے بہ آسانی بدگمان کردیتے ہیں۔لڑکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس محبت کا آغاز  اپنے ماں باپ کو دھوکہ دینےکی ترغیب سے ہورہا ہے وہ محبت نہیں ہوس ہے، جو شخص انہیں اپنے خاندان کی عزت پر بٹہ لگانے پر مائل کررہا ہے، وہ ان کی بھی کبھی  عزت  نہیں کرے گا۔ اور جس رشتے میں عزت نہ ہو، وہاں محبت کا شائبہ بھی نہیں ہوتا۔ویسے بھی  محبت کا جنون تو کچھ عرصے میں ٹھنڈا پڑجاتا ہے، باقی زندگی ساتھ نبھانے کے لیے سب سے پہلے ایک دوسرے پر اعتماد درکار ہوتا ہے جو ایسے رشتے میں سرے سے غائب ہوتا ہے جس کی بنیاد ہی چوری چھپے کے تعلق پر ہوتی ہے۔ گھر سے بھاگنے  اور بھگانے کے ذریعے بننے والے گھر میں دونوںایک دوسرے سے نہ اعتبار  پاتے ہیں نہ احترام۔اور نقصان میں لڑکی رہتی ہے کیونکہ اعتبار اس کا ٹوٹتا ہے، خواب اس کے بکھرتے ہیں۔ مگر جب احساس ہوتا ہے کہ:

کس ابر ِگریز پا کی خاطر

میں کیسے شجر سے کٹ گئی تھی

کس چھاؤں کو ترک کردیا تھا

اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔آج  ایک طرف ہاتھوں میں موجود موبائل نے ہر نوعمر لڑکی کو ہر ہوس پرست مردکی دسترس میں کردیا ہے، تو دوسری طرف  تعلیمی اداروں اور اکیڈیمیز میں  کم عمر لڑکے لڑکیاں جن کو صنفِ مخالف سے معاملہ کرنے کی تہذیب بھی نہیں ہوتی، ایک دوسرے کے ساتھ پڑھنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ غلطی دونوں طرف سے ہوتی ہے مگر اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نقصان لڑکی کا ہوتا ہے اور خود کو نقصان سے بچانے کی فکر ہر کسی کو بقدرِ ضرورت کرنی ہوتی ہے۔ اگر ہم بچیوں پر جبر اور پابندی نہیں چاہتے تو کم از کم ا ن کو بڑی ہوتی عمروں میں ان کے ممکنہ نقصان کی آگاہی ضرور دیں تاکہ ان کا اپنا شعور بیدار ہو۔گزشتہ ماہ ایسے کچھ واقعات پے درپے ہوئے ہیں جن میں کم عمر لڑکیوں کو ورغلا کر نکاح کرنے کے دعوےدار سامنے آئے ہیں۔ایسے واقعات پر معاشرے کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ گھروں سے ورغلائی گئی بچیوں کے ’’حقوق‘‘  کا تحفظ کرنے والی این جی اوزکو بھی ان کی کم عمری کی بنا پرخلافِ معمول ان کے ماں باپ کا ساتھ دینا پڑرہا ہے۔جبکہ ہماری ہردعائے زہرہ چودہ کی ہو یا اٹھارہ کی، ورغلائے جانے سے حفاظت اس کا حق ہے،معاشرے کے مفسد عناصر کی پہنچ  سے محفوظ رکھے جانااس کا حق ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کی عزت ہے اور والدین کی دہلیز سے دعاؤں کے ساتھ باعزت رخصتی اس کا حق ہے۔

خزینے جاں کے لٹانے والے دلوں میں بسنے کی آس لے کر

سنا ہے کچھ لوگ ایسے گزرے جو گھر سے آئے نہ گھر گئے ہیں

شکستِ دل تک نہ بات پہنچی مگر اداؔ کہہ سکو تو کہنا کہ اب کے ساون دھنک سے آنچل کے رنگ سارے اتر گئے ہیں