ریاستِ مدینہ دین ہےیا سیاست؟

گلِ دوپہر 

صائمہ اسما

شمسی تقویم کے مقابل قمری تقویم میں تحرک ہے،زندگی ہے، اور اسی کی برکت ہے کہ ہمارا یوم آزادی کبھی رمضان المبارک سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے، کبھی ذی الحج سے،کبھی ربیع الاول سے تو کبھی محرم الحرام سے۔دو نسبتیں مل جاتی ہیں تو سوچ کے ہزاروں نئے در وا کردیتی ہیں۔ آزادوطن کےپچھتر برس  بعدجس ریاستِ مدینہ کا ہمارے ہاں چرچا ہے، امام حسینؓ اسی ریاست مدینہ کی روح کوبرقرار رکھنے کے لیےاٹھے تھے۔یہ ریاست وہ تھی جس کے لیے نبیِؐ مہربان نے تیرہ برس تیاری کی تھی، حرم کا صحن،مکہ کی گلیاں،کوہِ صفا،شعب ابی طالب کے پتھر، طائف کے باغات،غارِ حرا سے غارِ ثورتک کی کہانی کا ایک ایک منورورقاس زندہ رہنے والی داستان کا گواہ ہے۔ اس تیاری پر آپؐ نے اپنے جانثاروں کے ساتھ ایسی عمارت اٹھائی کہ اگلے دس برس میں اسلام ابد تک ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن گیا۔آپؐ نے ایسی ریاست بنا کر، چلا کر دکھا دی کہ آپؐ کے وصال کے بعد بھی ایک کے بعد ایک خلیفہ ِراشدانہی بنیادوں پرقائم رہا۔

یوں آپؐ نے محض بائیس برس میں وہ انسان بنا دیے جنہیں ذرا سا بھی شبہ نہ تھا کہ حکمران کیسا ہونا چاہیے اور حکمرانی کا کیا مطلب ہے۔ مسجد نبوی حکومت کا مرکز تھی۔ایک طرف وہ بطور عبادت گاہ روحانی بلندیوں کے حصول کا ذریعہ تھی تو دوسری طرف وہ بطور یونیورسٹی علم وفضل کامرکز،پارلیمان،سٹیٹ بنک،عدلیہ اورجی ایچ کیوبھی تھی۔مسجد کے امام ہی خلیفہ یعنی حکمران تھے۔خلیفہ کا تصور اسلام میں بڑا انوکھا ہے جسے مغربی جمہوریتوں کے گرد بُنے ہوئے علوم سے متاثردماغ آسانی سے سمجھ نہیں پاتے۔ آج ہمیں لیڈرشپ کا تصور مغرب کی امپورٹ لگتا ہے۔ مگرتصور تو کیا، پندرہ صدی پہلے یہ لیڈر ہمارے نبیؐ نے خلفائے راشدین کی شکل میں ہمیں بنا کربھی دکھا دیے تھے۔یہ خلیفہ نہ عالم دین ہے نہ جرنیل،نہ ٹیکنو کریٹ ہے نہ بزنس مین، نہ بادشاہ ہے نہ آمر، نہ اشرافیہ کا رکن نہ جاگیردار۔یہ توبس ایک لیڈر ہے  لوگوں  کے بھروسےکا، جو بہترین  اخلاقی صفات اور صلاحیتوں کے ساتھ اپنے لوگوں کا سچا خیرخواہ ہے اور ان کی مادی اور اخلاقی ترقی کا ذمہ دار، ان کی دین اور دنیا کی بہتری کا ضامن،اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کا ادراک رکھنے والا ، ان کی ادائیگی کے لیے منصوبے بنانے اور ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والاپُرعزم، دلیر، انتہائی زیرک انسان۔ملکی امانتوں کا محافظ اوراپنے ذرائع آمدن (منی ٹریل) کے لیے جوابدہ،خواہ معاملہ کُرتے کے زائدکپڑے کا ہو۔انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کروانےوالااور خدائے واحد کی غلامی میں لے کر آنے والا، اورپھر اس آزادی کی حفاظت کرنے والا۔

ہمیں بھی یہ آزادی ہمارے بڑوں نے لے کر دی تھی۔آج ہمیں زخم کھاتے پچھتر سال بیت گئے ہیں، ہمیں آج تک معلوم نہ ہوسکا کہ حکمران کیسا ہونا چاہیے۔ معمولی قیمت کے موبائل کی جان سے بڑھ کر حفاظت کرتے ہیں اورملکی خزانے سونپنے کے لیے خائن، بددیانت کو بخوشی ووٹ ڈال کر آتے ہیں چاہے کسی عنوان سے ہو،بلکہ ساتھ زندہ بادکے نعرے بھی لگاتے ہیں۔اس قوم کی بدنصیبی کا کیا کہنا جس کو حسینؓ نصیب ہوں اور وہ پون صدی سے یزیدوں میں گھری ہو۔ عوام کا ذکر نہیں کہ ان کو اپنی روزی روٹی کی پڑی ہے،مگر  تعلیم یافتہ، خوشحال ،اخبار پڑھنے،دس چینل دیکھنےوالا،سوشل میڈیا پہ سرگرم طبقہ امام حسینؓ کی جدوجہد کو اپنے قومی تناظر میں کس مقام پہ رکھتا ہے؟میرا ماننا ہے کہ ہر پاکستانی خواہ کیسا بھی گیا گزرا بدعمل ہودین سے محبت رکھتا ہے۔مگردین کو شعوری طور پہ اپنانے والے لوگ بھی جوکثیر تعداد میں ہیں، اپنے اپنے جھنڈوں کے سائے میں قید ہیں اور دینی تعبیرات کی باریکیوں اورنکتہ آفرینیوں میں اس قدرغرق ہیں کہ قومی تقاضوں کو آج کے تناظر میں دیکھنے کی اہلیت سے تقریباً عاری ہو چکے ہیں الا ماشا اللہ۔ایسے میں رہنمائی کون کرے؟یزید کی تخت نشینی کو کثیر تعداد میں اکابرین امت نے ماننے سے انکار کیا تھا۔ان میں صحابہؓ کرام بھی تھے، اوردیگراہل الرائے افراد بھی۔ یہ اس دور کے opinion leaders تھے، عوام الناس انہیں دیکھ کر اپنی رائے بناتے تھے۔آج کے رائے ساز عوام کو درست سمت دکھانے سے قاصر ہیں۔ہر گروہ اپنے مفادات کا اسیر ہے۔ شب و روزحالات کا اتار چڑھاؤ ایسا  کہ کبھی کامیڈی، کبھی میلو ڈرامہ اور کبھی  ایڈونچر تھرل سے بھرپور فلم کا گمان گزرتا ہے۔نہ اصولوں کی کوئی اہمیت ہے نہ اخلاق و کردار کی۔اگر قانون کے پاسبان ہی یہ کہہ دیں کہ دفعہ باسٹھ تریسٹھ پر تو صرف سراج الحق ہی پورے اترتے ہیں تو توقع کس سے کریں۔ سراج الحق آسمان سے نہیں اترے، اسی زمین کی پیداوار ہیں جس نے ان عدالتوں کے ہوتے ہوئے بھی لٹیروں کو جنم دیا اور پروان چڑھایا ہے، ان کو سیاسی موت سے بچایا ہے اور انہیں نظریہ ضرورت کے ٹیکے لگائے ہیں۔عدالتوں کا کام ان دفعات کا ٹھٹھا اڑانا نہیں،  ان کو نافذ کرنا ہے تاکہ سراج الحق جیسے شفاف کردار کے مزید لوگ سیاسی منظر نامےکا حصہ بنیں۔بندوں کو گنا نہیں تولا جائے۔سیاست اصولوں کی پابند ہو،ضمیر اور زبانیں آزاد ہوں،حق بات کہنے کا حوصلہ ہو،لوگاہلِ کوفہ کی طرح جبر سے مصالحت کرنے والے ہوں نہ ہی یزید کے درباریوں کی طرح خوشامدی اور مطلب پرست۔جب سیاست موروثیت اورضمیر فروشی کا نام بن جائے تو ایسے میں عدالتوں کاکام ہے یہ یقینی بنائیں کہ عوام کی آزادانہ رائے شفاف طریقے سے سامنے آئے، نظام میں ایسی اصلاحات کی جائیں کہ عوام کی حقیقی نمائندگی ہونہ کہ چند فیصد حمایت لینے والے پورے ملک پر مسلط ہو جائیں۔جو حکمران بنیں وہ مناصب کے حریص نہ ہوں،عوام کے آگے جوابدہ ہوں۔قانون سے بالاتر کوئی نہ ہو،حکمران سب سے پہلے خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کوقانون کے پابند سمجھیں۔ یہ تھی ریاستِ مدینہ جس کی بقا کے لیے امام عالی مقام اٹھے تھے۔مجھے نہیں معلوم یہ دین ہے یا سیاست ،لیکن اگر ہم امام حسینؓ کی جدوجہد سے اپنی قومی زندگی میں عمل کی راہیں متعین نہیں کرسکتے تو یا تو ہمارا تصورِدین بگڑ گیا ہے یا ہم سیاست کے معنی کچھ اور سمجھتے ہیں!