موٹر وے سانحہ 2020

پاکستان میں خواتین کے حقوق سے متعلق ایشوز بہت سادہ نہیں ہوتے۔ بات سادہ سی ہے کہ پاکستانی عورت خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہے ریاست اسے احساس تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ ہمارے سماج کی عورت نصف شب کے بعد بچوں کے ساتھ تنہا لمبے روٹ پر آسکریم کھانے نہیں نکلتی۔کوئی اشد مجبوری ہوگی۔ یہ کہنا کہ فلاں راستہ لینا تھا یا تنہا کیوں نکلیں سیکورٹی اہلکاروں کو زیب نہیں دیتا۔یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ مجرم پکڑے جائیں, تیز تر ٹرائل ہو اور سر عام پھانسی۔یہ قومی مطالبہ ہے اس اندوھناک سانحہ پر۔ بات یہاں تک ہے۔ صبح ایک ٹی وی چینل پر عورتوں کی ایک انجمن کی نمائندہ کہ رہی تھیں کہ مجھے رشتوں کا اکرام درکار نہیں۔ماں بہن اور بیوی بیٹی کیوں میرا تشخص ہو؟ مجھے عورت کی حیثیت میں عزت درکار ہے۔
حالانکہ عورت سے جڑے یہ رشتے تو زندگی کا مان ہیں۔ہر عورت کسی کی بیٹی اور بہن ہے۔ جب انسان کی اپنی بہن اور بیٹی ہوتی ہے تو وہ دوسرے کی بہن اور بیٹی کی بھی عزت کرنا جانتا ہے۔ معاشرے کی مائیں سانجھی ہیں,بہنیں,بیٹیاں سانجھی ہیں۔ کیا موٹر وے کے اس سانحہ کا دکھ صرف عورتیں محسوس کررہی ہیں ؟؟ ہر آدمی جس کے اپنے گھر میں ماں,بہن,بیوی,بیٹی جیسے پیارے رشتے موجود ہیں اس سانحہ پر لرزہ براندام ہے۔ میرے بھائی ,شوہر اور بیٹے مجھ سے زیادہ مضطرب ہیں ان کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے ایک غیر محفوظ سماج میں ۔ ایسے واقعات تازیانہ ہیں ہر مرد کی غیرت کے لیے بھی۔
یہ عورتوں اور مردوں کی جنگ نہیں ہے۔ یہ سماج کی جنگ ہے جرم اور مجرم کے ساتھ۔۔ جتنی نفرت ایک عورت ایسے ناپاک مجرم سے کرتی ہے اتنی ہی ایک مرد بھی۔ اس لیے کہ وہ خود باپ, بیۓا,شوہر اور بھائی کے پاکیزہ رشتوں سے جڑا ہے۔ یہ تو درندہ صفت لوگ جو انسان نما بھیڑیے ہیں معاشرہ کا چہرہ داغ دار کررہے ہیں۔ اب یہ کہنا کہ میرا بھائی یا بیٹا نصف شب کو تنہا اسکوٹر چلا سکتا ہے تو یہ حق مجھے بھی ملنا چاھیے۔ آدھی رات کے بعد تنہا گھر سے نکلنا میرا حق ہے مجھے مرد جتنی آزادی مطلوب ہے۔صنفی تخصیص کے بغیر۔ یا۔۔۔اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن کو لازم کیا جائے وغیرہ
تاثر یہ دیا جانے لگتا ہے کہ سارے مرد سب عورتوں کے حقوق سلب کررہے ہیں۔ ہم پنجروں میں قید پھڑپھڑا رہی ہیں۔ پاکستانی عورت عالمی عدالت نصاف تک جائے کہ یہ معاشرہ ہمیں انسانی حقوق نہیں دے رہا۔ حقوق نسواں ایک جمپ میں آزادی نسواں بن جاتی ہے۔ یہاں خواتین کے حقوق کی آڑ میں فتنوں اور ایجنڈوں سے ھشیار رہنا وقت کی ضرورت ہے۔ ہمیں فوکس رھنا چاھیے کہ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ مجرم سے آھنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ سارا سماج عورت کی حفاظت کے لیے مضبوط حصار بن جائے۔ اللہ کرے موٹر وے کاسانحہ ہماری تاریخ کا آخری سانحہ ہو۔۔
افشاں نوید