!یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

گُلِ دوپہر

ڈاکٹر صائمہ اسما

ایک صاحب کی بیٹی کا رشتہ آیا تو انہوں نے لڑکے کی معلومات لینی شروع کیں۔ لوگوں نے کہا کردار کا اچھا نہیں ہے۔ وہ اس کے خاندان کے کسی فرد کے پاس گئے اور پوچھا۔  بتانے والے نے کہا  ، کچھ بھی نہیں بس پیاز کھاتا ہے۔ صاحب  مطمئن ہو کر اٹھنے لگے کہ کوئی بات نہیں ،برداشت ہے۔مگروہ بولا، پیاز اس وقت کھاتا ہے جب منہ سے بدبو آتی ہے۔اور وہ کب آتی ہے؟ صاحب حیران ہوئے۔ جواب ملا جب شراب پی کر آتا ہے۔صاحب چونکے۔ مگر پریشان نہ ہوں، شراب ہروقت نہیں پیتا،وہ شخص بولا، صرف تب ،جب اس بازار میں جاتا ہے!اور  صاحب نےلا حول  پڑھ کر واپسی کی راہ لی۔

یہ لطیفہ ہمیں یوں یاد آیا کہ کینیڈا کی سپریم کورٹ نےمتفقہ فیصلے میں کہا ہے کہ شدیدنشہ کرکے جرم کرنے والے کو دفاع میں نشے کا عذر پیش کرنا جائز ہے،یعنی ایکسٹریم ان ٹوکسی کیشن ڈیفنس۔ پرانا قانون جو اس عذر کو نہیں مانتا تھا، وہ غیر آئنی ، حقوق اور آزادیوں کے خلاف ہے اس لیے منسوخ۔ یہ وہ قانون تھا جسے وہاں عورتوں کے ایڈووکیسی گروپوں کی  حمایت حاصل تھی۔اب وہ غریب شور مچا رہی ہیں کہ عورتوں بچوں کی حفاظت کون کرے گا جو ایسے جرائم کاپانچ گنا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ اب کوئی شخص ڈرگز یا نشےکے زیر اثرکسی کاقتل  یا عصمت دری کر کے کہہ سکتا ہے کہ یارو مجھے معاف کرو میں بہت زیادہ نشے میں تھا! مجھ سے خود پر کنٹرول نہیں ہؤا، میں نے چار پیگ زیادہ پی لیے تھے یا آئس نے تو آج مجھے جماہی دیا تھا۔

قرآن میں نشے پر پابندی کا پہلا تدریجی حکم حالت نشہ میں نماز پڑھنے کی ممانعت سے آیا تھا اس  وجہ کے ساتھ، کہ تمہیں پتہ ہو تم نماز میں کیا کہہ رہے ہو۔ہم نے پڑھا ہے کہ نشہ انسان کے حواس مختل کردیتا ہے، اسے نہ اپنی سدھ بدھ رہتی ہے نہ دوسروں کی۔اور دیکھا ،سناہے کہ نشے میں اچھا بھلا معزز آدمی بھی ایسی حرکات کرجاتا ہے جن پر اسے بعد میں ازحد شرمندگی ہوتی ہے۔اسی لیے آغاز نماز سے ہؤا جو سب سے اہم معاملہ تھا کہ اپنےرب سے بات چیت پورے شعور اور ہوش و حواس کے ساتھہو،تمام آداب ملحوظ رکھتے ہوئے ۔اس کے بعد معاشرت کے آداب کا نزول شروع ہؤا تو نشہ مکمل حرام کردیا گیا تاکہ کسی بدعملی کو نشے کا جواز نہ مل سکے۔انسانوں کے جان و مال، عزت آبرو پردوسرے انسان بے شعوری میں، بلاارادہ بھی ہاتھ نہ ڈال سکیں۔  ایک شراب نوش سوسائٹی میں رہتے ہوئےعین متوقع ہوتا ہے کہ نشہ کر کے اول فول بکا جائے ، کسی کے گریبان پر ہاتھ ڈالا جائے ، مگرآدابِ معاشرت میں شامل ہے   کہ درگزر کیا جائے گاکیونکہ ایک شخص اپنے حواس میں نہیں۔ البتہ اس سے آگے کے معاملات ہمیشہ قابل گرفت رہے۔

قرآن میں نشے  کو ان اعمال  میں رکھا گیا ہے جن کے بارے میں اللہ نےفرمایا، ان  میں فائدے ہیں مگر ان کے نقصان ان کے فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں۔الہامی ہدایت ایسے ہی نقصانات سے انسانیت کو بچانے کے لیے اتری ہے جن پر ان کے فائد وں کی کشش نے پردہ ڈال رکھا ہے،یا  انسان اپنیقوت ارادی کے بل پر ان سے کنارہ نہیں کر سکتا جب تک کسی زبردست یقین کی قوت اس کا محرک نہ بنے۔ اسی لیے زہر خورانی کسی مذہب کوحرام نہیں کرنی پڑی کیونکہ اس کا نقصان فوری موت کی شکل میں واضح ہے۔ یہی لاجک کھانے پینے اور مشاغل  سے لے کر معیشت تک پھیلی ہوئی ہے بلکہ رویوں کی بھی تہذیب کرتی ہے جیسے غصہ حرام ہے کیونکہ یہ عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان اپنے کیے یا کہے پر تاعمرپچھتاتا  ہے۔

یہی حال نشے کے نقصانات کا ہےجن سے شراب نوش معاشرے بخوبی واقف ہیں۔ امریکہ میں پندرہ فیصد ڈکیتیاں، پینتالیس فیصد قتل ،تریسٹھ فیصد محبوب پر  تشدد،سینتیس فیصد جنسی حملے، اورپینتالیس فیصد جسمانی حملے الکوحل کی وجہ سے ہوتے ہیں۔یقیناًکینیڈا کی صورتحال بھی مختلف نہ ہوگی بشمول دیگر ممالک کے۔مگر کیا مجال کہ شراب نوشی پر پابند ی کا نام بھی زبان پر لایا جاسکے بلکہ اب تووہاں ڈرگز حلال ہورہی ہیں۔ہمارے ہاں بھی نشے کے عادی افراد سے ہمدردی کا اشتہار کئی سالوں سے چلایا جارہا ہےاورہماراوہ طبقہ ِخواتین جسے موزے ڈھونڈ کے دینا گوارا نہیں ،اسے  شوہر کی بدزبانی اور بدتمیزی کو نہایت پیار سے برداشت کرنے کی اس تلقین پر کوئی اعتراض نہیں۔ ہمدردی  اچھی بات ہے مگر افسوس یہ کہ شراب پر پابندی ہونے کے باوجود شراب ہر ایک کو دستیاب کیوں ہے اور جرم ہونے کے باوجود اسے جرم  کیوں نہیں سمجھا جا رہا۔ نہ نشہ کریں گے، نہ بدمزاجی کی نوبت آئے گی۔یہ ام الخبائث اسی لیے تو کہلاتی ہے۔

انسان کا المیہ ہے کہ ایک خرابی کو اپنے تئیں ٹھیک کرنے کے لیے کسی دوسری اور زیادہ بڑی  خرابی سے مصالحت کرتا ہے، اور پیاز کھانے جیسے عجیب و غریب حل نکالتاچلا جاتا ہے، مگر اس بازار جانے سے نہیں رکتا، نفس کو لگامیں نہیں ڈالتا۔یہ رویہ کہیں کینیڈا کے حالیہ قانون کی شکل میں ہے اور کہیں مجرموں کے لیے ہمدردی کی صورت میں۔ کہیں بلانوشوں کو نفسیاتی بیمار کہہ کر فساد کی کھلی اجازت دیتا ہے تو کہیں ہم جنس پرستی کی آوارگی اور بیمار رویے کو نارمل قرار دیتا ہے۔سورہ مائدہ میں اللہ فرماتے ہیں ’’انکار کرنے والوں نے سَوَآءَالسبیل گم کردی‘‘، مولانا مودودیؒ بڑی خوبصورت تشریح کرتے ہیں کہ انسان  اپنی محدود عقل کے مطابق دنیا کا نظام چلاتا ہے، مگر اس راہِ اعتدال سے گزر کر آگے نکل جاتا ہے، یہاں تک کہ زخم کھا کر پھر پلٹتا ہے اس کی طرف، مگر پھراسے پہچانے بنا پار کر جاتا ہے اور   دوسری سمت کی گمراہی پرچل نکلتا ہے، یہ بدنصیبی کے وہ دھکے ہیں جو الہامی ہدایت سے منہ موڑ کر انسانیت کھاتی رہتی ہے۔